گلگت بلتستان سمیت بلوچستان اور فاٹا کے طلبہ کے میڈیکل کالجز کے کوٹہ میں کمی کا فیصلہ

پنجاب بھر کے میڈیکل کالجز میں گلگت بلتستان، بلوچستان اور فاٹا کے طلبہ کے لیے مختص نشستوں کی تعداد میں کمی کردی گئی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ہائی ریکنگ میڈیکل کالجز میں گلگت بلتستان کے طلبہ کے لیے مخصوص نشستوں کو تین گنا کم کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔گلگت بلتستان کے میڈیکل کالجز کے طلبہ کے ایک وفد نے مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان برادر عارف حسین الجانی سے ملاقات میں طلبہ کی مشکلات سے آگاہ کیا۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ ہماری سرزمین کو قیام پاکستان سے آئین سے محروم رکھا گیا اور صوبہ بھر میں جامعات نہیں بنائی گئیں موجودہ حکومت نے حالیہ الیکشن کمپین کے دوران تعلیمی مسائل حل کرنے کے وعدے کیے تھے لیکن پنجاب میں ہمارے ہونہار طلبہ کو ان کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔

طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جامعات کا فقدان ہے طلبہ کی کثیر تعداد پنجاب کے شہر لاہور اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں لیکن انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ قابل اور محنتی طلبہ کو ان کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ معاشرے کے باشعور طبقہ کا استحصال کیا جائے ۔گلگت بلتستان کے پنجاب بھر میں مقیم طلبہ اس نا انصافی پہ سراپا احتجاج ہیں اور جلد پنجاب بھر میں احتجاج کی کال دیں گے۔مخصوص نشستوں میں دوگنا اضافہ کے مطالبہ تک سراپا احتجاج رہیں گے۔
اس موقع پر مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ کو انکے بنیادی اور آئینی حق سے محروم کرنا تعلیم دشمنی کے مترادف ہیں۔ہم اس نا انصافی کے خلاف گلگت بلتستان کے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم یہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوٹی فکیشن کو فی الفور واپس لیا جائے اور طلبہ کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جائے
مرکزی صدر نے مزید کہا کہ بلوچستان ،فاٹا اور گلگت بلتستان کے طلبہ کے میڈیکل کالجز میں کوٹہ کو کم کرنے کے معاملہ کو ہر پلیٹ فارم سے اجاگر کریں گے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *