ء49برسوں پر محیط جہد مسلسل

تحریر:ڈاکٹر راشد عباس عباس نقوی (سابق مرکزی صدر)

۔ایثارو وقربانی کی لازوال داستان۔

نشیب وفراز سے گزرتی ایک الہی تحریک۔

تقوی کے حصول اور امور میں نظم کے لئیے کوشاں الہی کارواں

۔شجرسایہ دار جس کے سائے میں کئی تھکے ہارے مسافروں نے پناہ لی

جس کے گل و میوے سے راھگزروں نے بھی استفادہ کیا

جس کی سرسبز و شاداب شاخوں پر بلبلان توحید نے بسیرا کیا

۔سربلند و آسمان سے سرگوشیاں کرنے والا سربفلک کوہ سفید جسکے دامن میں آباد حسین وادیاں اپنے باسیوں کو نبوت و امامت کی لوریاں دیتے ہوئے آغوش میں لئیے ہوئی ہیں

۔وہ آفتاب درخشاں جسکی کرنیں دنیا بھر میں نور ھدایت بکھیرتی نظر آرہی ہیں

۔ایسا آسمان جسکے سائے میں نظریاتی قوتیں پروان چڑھتی نظر آرہی ہیں

۔وہ خوبصورت و پرسکون جھیل جسکی تہہ میں کئی طوفان پوشیدہ ہیں

اس وہ دریا جو اپنی روانی کو جاری رکھتے ہوئے معاشرے کے ابلیسی خش و خاشاک کو معاشرے سے دور بہا کر لے

جارہا ھے۔

وہ سمندر جس پر رواں دواں بادبانی کشتیاں کشتی نجات کی طرف رھنمائی کررہی ہیں۔

ایک احساس جو ضمیروں کو جھنجوڑ کر ظلم کے خلاف قیام اور مظلوم کی حمایت کا حوصلہ پیدا کرتا ھے

۔وہ جزبہ جو کربلا سے درس لیکر باطل قوتوں سے ٹکرانے کا راستہ دکھاتا ھے

۔وہ آواز جو ضیافت نور کی طرف بلانے کو فریضہ الہی سمجھتی ھے

۔وہ پکار جو بے کسوں اور بینواوں کی دادرسی کا پیغام لئیے ہوئے ھے۔

وہ زندگی جو موت کے تعاقب میں

معاد و قیامت کے راز آشکار کررہی ہے۔

وہ امید جو ناامیدی و مایوسی کو جھٹک کر امنگوں اور ارمانوں کے بیج بو دیتی ہے۔

وہ دوست جو تنہائیوں میی ھمدم اور افسردگی میں روحانی تسکین۔

وہ عشق جو رگ وپے میں دوڑ کر لقا اللہ کے نشے میں سرمست کردیتا ھے۔

وہ شعور جو زندگی کے بنیادی ھدف اور وماخلقت جن ولانس کی تعبیر کی طرف متوجہ کردیتا ھے

آئی ایس او عشق بھی ھے شعور بھی ھے اور عزم بالجزم بھی۔آئی ایس او ایک پیغام بھی ھے پکار بھی ہے اور دعوت بھی۔

اس آواز،پکار اور دعوت کا ادراک اور شناخت ضروری ہے ۔اسکے نصب العین اور اغراض و مقاصد پر توجہ اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ھے۔

 

بقول علام اقبال

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق

تن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج

من کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *