پچاس سالہ جوان سازی

تحریر: شاہد عباس ہادی

معاشرہ مختلف بحرانوں کا شکار تب ہوتا ہے جب ایک جوان کو خوشگوار ماحول نہ مل سکے، خیالات بکھر جائیں، جذبات و احساسات کا اظہار نہ ہو پائے، حوصلہ شکنی کا رواج عام ہوجائے اور معاشرہ جوانوں کی اہمیت اور قدر کو بھلا دے۔ تب معاشرے میں تربیت کا فقدان وجود میں آتا ہے جس سے انسان کے اندر اور باہر اخلاقی بحرانوں کا سلسلہ چلتا ہے اور انسان انسانیت کے مرتبے سے گرتا چلا جاتا ہے۔

استعمار کی زنجیروں میں جکڑے معاشرے میں ہر جوان کے لئے ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جو ہر فرد کے خیالات کو پراگندہ ہونے سے بچائے اور معاشرے کی اصلاح و ترقی کےلئے نظریات کو اکٹھا کرے۔ ملت تشیع میں ایسے جوان موجود ہیں جو معاشرے کی ترقی و اصلاح کےلئے کام کر رہے ہیں، جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی تحفظ کررہے ہیں بلکہ ان سرحدوں کی حفاظت کےلئے استعماری و یہودی طاقتوں سے نبرد آزماء ہوکر خون نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان جوانوں کا پاکیزہ ادارہ ہے، جو نہ صرف پچاس سالوں سے ظلم کے خلاف مقاومت کررہا ہے بلکہ جوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے بنیادی ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیر نے بچپن سے آئی ایس او کے زیر سایہ تربیت پائی ہے، اس تربیت گاہ نے بچوں اور جوانوں کےلئے جو ورکشاپس منعقد کروائی ہیں، اس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔ یہ کربلائی درس گاہ ہے جہاں حر بنایا جاتا ہے، اس درسگاہ میں صرف خاص نظریات کے حامل افراد شامل نہیں بلکہ ہر نظریے، ہر سوچ اور ہر خیال کے لوگ شریک ہوکر ہم خیال و ہم نظریہ بنتے ہیں۔ جوان کے خیال، سوچ اور نظرئیے کی قدر کی جاتی ہے، اس سے اہمیت دی جاتی ہے، اس کے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل حل کئے جاتے ہیں، فکری و نظریاتی پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتاہے۔ جوان ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر معاشرے کی اصلاحی بنیادوں پر یکجا ہوجاتے ہیں۔

آج آئی ایس او جیسے شجرہ طیبہ سے تعلق رکھنے والا جوان نہ صرف صیہونی طاقتوں کے خلاف نبرد آزماء ہے بلکہ تعلیم و ہنر سے مزین بھی ہے۔ لہذا آئی ایس او کی پچاس سالہ جوان سازی کو محسوس کریں، جوانوں کی مقاومت کو جذبات سے ملا کر حوصلہ شکنی نہ کریں۔ کیا قومی و عالمی مقاومت کے بغیر رہا جا سکتا ہے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آہ بھی نہ کی جائے؟
علماء کو چاہیے جوانوں کی سوچ کو پراگندہ نہ کریں، ان کا ہاتھ تھام کر حوصلہ و ہمت عطا کریں۔ استعمار کا پہلا نشانہ جوان اور اس کی مقاومت ہوتی ہے، ظلم کے خلاف قیام واجب ہے تو اس میں کونسی سیاسی و غیر سیاسی مصلحت ؟ آخر کب تک مقاومت اور اس کے راستوں سے روگردانی کریں گے؟ امام خمینی رح فرماتے ہیں “آج مقاومت کا زمانہ ہے۔ مشرق و مغرب کی بڑی طاقتیں آپ کو اپنے گندے اور خون آلود جوتوں تلے کچلنا چاہتی ہیں، یہاں تک کہ آپ آہ بھی نہ کہہ سکیں، امریکہ اور مغرب کے استکبار پر اس طرح سے طمانچہ ماریں کہ اس کی چمک مشرق کے استکبار کی آنکھوں کو اندھا کردے لہذا آج کا دن تاخیر کا دن نہیں ہے۔”
آئیں! اس کارواں کا حصہ بنیں، خود کو ایک لڑی میں پروئیں اور ان نظریات پر کام کریں جو انسان کو ہدف تک پہنچاتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *