(سابقین کے نام ایک پیغام)یوم تاسیس یعنی تجدید عہد

تحریر: علی زین سابق مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان

مجھے آج بھی یاد ہے کہ کلاس چہارم سے پاس ہوکر پانچویں کلاس میں داخل ہونے کا دن میری زندگی کا وہ پہلا دن تھا جب میں نے فرط جذبات میں خوشی سے چیخ ماری تھی، اس چیخ کہ وجہ کلاس پنجم میں پروموشن نہیں بلکہ کچھ اور تھی جو سکول میں موجود کسی کے علم میں نہیں تھی
دراصل زمانہ طفلی ہی میں ہمارے گاؤں میں محبین کی سالانہ ورکشاپس کا سلسلہ والد محترم اور ان کے احباب کی کاوشوں سے بھرپور انداز میں چلا کرتا تھا 5 روزہ یہ سالانہ ورکشاپس ہمارے بچپن کے یادگار ترین ایام سمیٹے ہوئے ہے. کارگاہ(ورکشاپ) میں تعداد کی کثرت اور انتظامی معاملات کی خوش اسلوبی کیخاطر کلاس چہارم تک کے بچوں کا داخلہ کارگاہ کے ایریا میں ممنوع قرار دیا گیا تھا اور میں زبردستی داخل ہونے کے باوجود استاد محترم بزرگوار مرتضی شاہین بھائی کی ڈانٹ کے باعث گیٹ سے سختی کے ساتھ نکال باہر کیا گیا اور ایسا پہلی بار نہیں بلکہ تیسری بار ہوا تھا اور میں ہمیشہ کی طرح روتا ہوا گھر پہنچا
اس لمحے شدت سے انتظار تھا کہ آخر کب میں بھی اس ورکشاپ کا ممبر بن سکونگا اور یہی وجہ تھی کہ جب کلاس پنجم میں پروموٹ ہونے کا اعلان ہوا تو خوشی کے مارے چیخ نکل گئی کہ “آج سے میں بھی آئی ایس او کی ورکشاپس میں ہر وقت جا سکونگا”
1997 میرا سنِ ولادت کہ جس سے سال قبل ہی پدرِ مہربان نے احباب کے ہمراہ اس مقدس افراد ساز فیکٹری کی شاخ ہمارے آبائی گاؤں میں کھولی، چشم کشا کی تو ہر طرف اسی کے چرچے تھے قدموں پہ بوجھ ڈالا تو آئی ایس او کی آوازیں تھیں لڑکپن کو دیکھا تو اسی نے اپنی آغوش محبت میں سنبھالا، الغرض تعلیم و تربیت سے لیکر عملی و غیر نصابی تمام سرگرمیوں میں یہ انسان ساز فیکٹری مشعلِ راہ ثابت ہوئی احبابِ باوفا کی بات ہو یا راہ بہشت کے مسافروں کی ہم نشینی کی خواہش، ہر قدم اس الہی کارواں نے عشق و محبت کے نئے باب کھولے،
الحمدللہ وہ لمحہ اور تا دم تحریر اس الہی شجر کے سایہ تلے، خوشبودار ہوا کی مہک سے جی لبھاتے ہوئے زندگی کے تمام لمحات گزارے اور یہی خواہش ہے کہ وقت رحلت اسی کے پرچم میں لپٹا لاشہ سپردِ لحد کیا جائے
لوگ آج بھی سوال کرتے ہیں کہ بالآخر کیا وجہ ہے کہ جوان اس تنظیم کے عاشق کیوں ہیں اس کی گن کیوں گاتے ہیں تو مختصر عرض کرونگا کہ دنیا بھر میں روزِ اوّل سے انسان مختلف اہداف کے حصول کیلیے تنظیمیں بناتے آئے ہیں اس لیے یوں کہنا بے جا نا ہو گا کہ انسان تنظیمیں بناتے ہیں مگر بہے کم کچھ خاص تنظیموں کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ وہ “انسانوں کو بناتی ہیں” انہی میں سے ایک سر بلند سر فہرست “آئی ایس او پاکستان” ہے کہ جس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نا فقط وطن عزیز بلکہ دنیا بھر کی مختلف مقاومتی تحریکوں کو گوہر نایاب عطا کیے اور آج بھی وطنِ عزیز کے گوش و کنار میں کسی بھی شعبہ میں فعال فرد ہو یا گروہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی انسان ساز فیکٹری کا مرہون منت ہے.
آج یوم تاسیس یعنی تجدید عہد کا دن ہے یہ دن موجودین سے زیادہ سابقین سے منسلک ہے. یہ دن سابقین کیلیے بطور خاص یاددہانی کا دن ہے. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سابقین اس طرح سے فعال نہیں ہوتے جیسے کہ ان سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں ایک سال پورے ملک کو چلانے والا مرکزی صدر، پوری ڈویژن کے دورہ جات کرنے والا ڈویژنل صدر دیگر شعبہ جات میں مرکز سے لیکر یونٹ سطح تک شبانہ روز مسلسل کام کرنے والا ایک دم سے ایسے افق سے پردہ پوش ہو جاتا ہے گویا کبھی تنظیم کا حصہ ہی نا تھا.
بلاشبہ اس سب کی متعدد وجوہات ہیں بہت سی مشکلات و دیگر امور کارفرما ہوتے ہیں
مگر منظر عام سے پردہ فرمانے والے سابقین کو متوجہ کرنا چاہونگا کہ یوں تنظیم سے کنارہ کر لینے میں نقصان اصل میں کس کا ہے یہاں ایک واقعہ (نشر مکرر) عرض کرتا چلوں “ایک شخص، اپنے دوستوں کی محفل میں باقاعدگی سے شریک ہوتا تھا اور پھر کسی وجہ سے شرکت سے دستبردار ہو گیا. کئی ایام بِیت جانے کے بعد اسی محفل سے ایک بزرگ اسے ملنے آئے. سخے جاڑے کے موسم میں مہمان بزرگ نےاس دوست کو تنہا ایک آتشدان کے سامنے بیٹھا پایا جہاں روشن آگ جل رہی تھی۔ ماحول کافی آرام دہ تھا۔ اس شخص نے مہمان کا استقبال کیا۔ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے، اور آتشدان کے آس پاس رقص کرتے شعلوں کو دیکھتے رہے ۔کچھ منٹ کے بعد مہمان نے ایک لفظ کہے بغیر ، جلتے انگاروں میں سے ایک کا انتخاب کیا جو سب سے زیادہ چمک رہا تھا، اس کو چمٹے کے ساتھ ایک طرف الگ رکھ دیا اور پھر بیٹھ گیا۔ میزبان ہر چیز پر دھیان دے رہا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ، تنہا انگارے کا شعلہ بجھنے لگا، تھوڑی ہی دیر میں جو پہلے روشن اور گرم تھا کوئلے کے کالے اور مردہ ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔
کچھ دیر بعد مہمان نے بیکار کوئلہ اٹھایا اور اسے دوبارہ آگ کے بیچ رکھ دیا، فوری طور پر اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے کوئلوں کی روشنی اور حرارت نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔ جب مہمان روانگی کے لئے دروازے پر پہنچا تو میزبان نے کہا: “آپ کی آمد کا اور آپ کے خوبصورت سبق کے لئے شکریہ، میں جلد ہی آپ کی محفل میں واپس آؤں گا”
قارئین محترم!
جب تنظیمی افراد بھی کارواں سے مربوط نہیں رہتے تو اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور بجھ جاتے ہیں، کیونکہ محفل کا ہر رکن دوسروں سے آگ اور حرارت لیتا ہے۔ تنظیمی افراد کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ شعلے کا ایک حصہ ہیں اور ہم سب ایک دوسرے کی فکر کو روشن کرنے کے ذمہ دار ہیں اور ہمیں اپنے درمیان اتحاد کو قائم رکھنا چاہئے تاکہ محبت کی حرارت واقعی مضبوط ، موثر اور دیرپا ہو، اور ماحول آرام دہ رہے۔ الہی کارواں کے تمام افراد بھی ایک کنبہ کی طرح ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کبھی کبھی ہم بہت زیادہ مصروف ہو جاتے ہیں
جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ اپنی بقا اورکامیابی کے لئے ہمیں اس الہی کارواں سے مربوط رہنا چاہیے اور اس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے۔ہم یہاں ایک دوسرے کی خیریت سے آگاہ رہنے کے لئے، اور ملک و ملت اور تنظیم کی بہتری کے لیے خیالات کا تبادلہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ محفل مزید روشن ہوتی رہے اور سب دوسروں سے حرارت لیں اور اپنی حرارت سے دوسروں کو مستفید کریں اور سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں.
“تنظیم سے وابستہ رہنا فقط تنظیم نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی حیات کی مانند ہے”
آئیں اور آج یوم تاسیس کو یوم تجدید عہد کے طور پہ مناتے ہوئے یہ عہد کریں کہ اس الہی شجر، اس الہی کارواں سے اسی طرح وفا کریں کہ جیسے شہید ڈاکٹر و دیگر شہدا ہم سے توقع رکھتے ہیں کم سے کم ہفتے میں ایک دن اس تنظیم کے نام کریں تا کہ ہادئ زماں کے ظہور کی زمینہ سازی میں مصروف عمل یہ جوان ہمیں بھی بوقت ظہور یاد رکھ سکیں

1 thought on “(سابقین کے نام ایک پیغام)یوم تاسیس یعنی تجدید عہد”

  1. ماشاءاللہ خوب
    لیکن یہاں پر ایک نقطہ ہے کہ ہم تنظیمی حسن و خوبصورتی میں تربیت و خودسازی کے پہلو کو تھوڑا سا نظر انداز کر دیتے ہیں انفرادی طور پر
    جبکہ تنظیمی اقدار اتنے خوبصورت ہیں کہ وہ ہماری شخصیت پر پردہ ڈال دیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اجتماعی کاموں کے ساتھ ساتھ انفرادی تربیت و تزکیہ نفس پر بھی اتنی ہی توجہ اتنی لگن کے ساتھ کرنی چاہیے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *