آئی ایس اوپاکستان اور میرا تاریکیوں سے روشنی کا سفر

 تحریر:سیدہ زہراء زینبی

بچپن سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند گھرانے میں تربیت حاصل کی ۔ مطالعہ کا بے حد شوق ہونے کی وجہ سے جہاں باقی بہت سی باتیں سیکھیں وہاں ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی لفظ شہادت سے بھی آشنائی کر لی۔ سچ پوچھیں تو شہادت کا منتظر زہن تھا جسے یہ معلوم نہیں تھا کہ شہادت اتنی آسان تو نہیں کے فقط چاہنے سے مل جائے اس کے لیے تو خود کو بنانا پڑتا ہے۔

دل میں دینی تعلیم کی تڑپ تھی ملتان کے ایسے نواحی گاؤں سے تعلق رکھتی تھی جہاں دور دور تک کسی دینی ادارے تو درکنار کسی مذہبی شخصیت کا بھی گزر ہوتا ہو۔ملت میں کیا ہو رہا ہے، ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں، اس سے ہمارے ہاں کے لوگوں کو کوئی سروکار نہیں تھا ۔ مجالس میں علیؑ علیؑ کے نعروں کی گونج اور گریہ کو ہی دین اور ذمہ داری سمجھا جاتا تھا، علما ئے کرام کو تو باقاعدہ طور پر دین میں تبدیلیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا۔ میں بھی اسی ماحول کا حصہ ہوتی اگر آئی ایس او میں شمولیت اختیار نہ کرتی۔

جماعت نہم میں جب تعلیم کی غرض سے دوسرے شہر روانہ ہوئی تو آئی ایس او پاکستان کے بارے میں پھیلائے گئے پراپیگینڈا نے تنظیم کا تعارف کروایا جس نے مجھے اس تنظیم سے شدید خوفزدہ کردیا، حالت یہ تھی کہ جہاں کہیں آئی ایس کا ذکر بھی ہوا میں راستہ بدل لیتی ۔وہ جو کبھی ایسے پلیٹ فارم کی متلاشی تھی اب اس سے خوفزدہ تھی۔

یونیورسٹی میں داخلے کے ساتھ میرا واسطہ ادارہ تربیت کے شائع کردہ لٹریچر سے پڑا۔ مطالعہ کا شوق بھی تھا اور آئی ایس او کا خوف بھی مگر تجسس خوف پر غالب آگیا۔ اب حقیقت عیاں ہوئی کے بہت سے افراد اس الٰہی تنظیم کے خلاف جھوٹ پھیلانےسے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب توبے اختیار رونے کا دل چاہا کہ کیوں اتنا عرصہ دور رہی۔

اب وقت تھا تنظیم میں شمولیت کا مگر یونیورسٹی تو دور پورے شہر میں یونٹ نہیں تھا اور برادران سے روابط نہیں کیے جا سکتے تھے۔ طالبات کے کچھ پیجز پر روابط کیے مگر جواب ندادرد۔

چاروناچار خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ مگر اس دوران ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور دیگر زرائع سے آئی ایس او کی ہر خبر اور کارکردگی پر گہری نظر رکھے تھی،شاید یہی وجہ تھی کہ تنظیمی گفتگو ہوتی تو میرے جوابات پر بہت سے افراد سوالیہ نظروں سے دیکھتے کے انہیں کیسے علم(شاید دل میں مجھے جاسوس بھی کہتے ہوں )۔ مگر ان سینئرز خواہران کی مشکور ہوں جنہوں نے اعتماد دیا ، ورکشاپس کے دوران وہ پاکیزہ ماحول اور دعائیہ محافل ، اختتام پر

“اللہم کن لی ولیک حجت ابن الحسن۔۔۔۔۔۔۔”

کی آوازیں کانوں میں آج بھی گونجتی ہیں اور احساس ذمہ داری کو بیدار کرتی رہتی ہیں۔تنظیمی امور کی انجام دہی میں ہمیشہ ھدف خدا کی ذات رہی۔ یہی سوچ تھی کے جو محرومی میں نے دیکھی ملت کی باقی خواہران کے لیے کچھ کر جائیں۔ شاید اسی طرح اپنے وقت کے ضیاع کا ازالہ کیا جاسکے۔

میں جو اس گرداب میں پھنس کر خود کو ضائع کر چکی تھی آئی ایس او کی بدولت ولایت فقیہ سے آشنائی ہوئی۔ اسی کی بدولت ہی ان ذمہ داریوں کا احساس ہو ا کہ کس طرح خود کو منظم کرتے ہوئے مجھے امام وقتؑ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ ملت کی بہنوں سے یہی کہوں گی کے آپ کسی سے بھی کم نہیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں،اور میدان عمل میں اتریں۔ آپ ملت کے خواص افراد میں شامل ہیں جنہیں معاشرہ کی سمت کا تعین کرنا ہے۔ آج ہم وسائل نہ ہونے کا بہت شکوہ کرتے ہیں، مسائل پر نوحہ کناں ہوتے ہیں مگر یاد رکھیں جس الہٰی کارواں سے ہم منسلک ہیں اور جس مکتب حسینؑ سے تعلق ہے یہاں وسائل نہ صرف خود بنانے ہیں بلکہ حالات کو بھی بدلنا ہے

شکوۃ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

آئی ایس او ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہمیں نہ صرف خود کو بلکہ ملت کے باقی نوجوانوں کو اندھیروں سے نکالنا ہے۔ آئیں اس یوم تاسیس ڈاکٹر محمد علی نقوی اور دیگر شہدائے امامیہ سے عہد کریں جو کام انہوں نے شروع کیا اور آبیاری کی اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی سلامتی کی دعا اور امام زماں عج کے ظہور میں تعجیل کے لیے صلوٰۃ

اللھم صلی علی محمد وآل محمد و عجل فرجہم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *