میرا تنظیمی سفر

تحریر : علی عباس سرگودھا
ISO جب سے ہوش سنبھالا ہے دیواروں پر ایک نام لکھا ہوا پڑھا

والد صاحب سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ شیعہ جوانوں کی تنظیم ہے۔ تب سے اس کے بارے میں تجسس پیدا ہوا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا ہے۔ باقاعدہ طور پر اس تنظیم کے ساتھ میرا سفر 2013 میں بطورِ محب شروع ہوا تب میں میٹرک کا طالبعلم تھا۔ لیکن یہ سفر شروع ہونے کے ساتھ ہی رک گیا کیونکہ کالج میں کسی قسم کی تنظیمی سرگرمی مکمل طور پر ممنوع تھی۔ 2016 میں یونیورسٹی آف سرگودھا میں داخلہ لیا۔ سرگودھا شہر میں یونیورسٹی روڈ پر تنظیمی پوسٹرز اور پینافلیکسز دیکھ کر ایک بار پھر سےاس کارواں میں شمولیت کا شوق پیدا ہوا۔ مگر سوال یہ تھا کہ شمولیت کےلیے رابطہ کس سے کیا جائے ؟

شرمیلا اور ناک کی سیدھ پر چلنے والا لڑکا تھا جس بناء پر یہ کرنا مزید مشکل ہو گیا اور اسی کشمکش میں، میں نے 2 سمسٹر گزار دیے۔ ستمبر 2017 میں یونیورسٹی کے داخلے جاری تھے۔ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے مختلف تنظیموں نے اپنے اپنے داخلہ کیمپ لگائے ہوئے تھے جن کا مقصد داخلہ کےلیے آنے والے نوجوانوں کی مدد کرنا تھا۔ اس دوران میں نے ایک داخلہ کیمپ دیکھا کہ جس نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ “لبیک یا حسینؑ راہنمائے داخلہ کیمپ” کے عنوان سے لگایا جانے والا یہ کیمپ آئی ایس او پاکستان کے زیر انتظام تھا۔ اب مجھے اپنی شمولیت کا خواب حقیقت ہوتے ہوئے نظر آنے لگا۔ پہلے چار دن میں اس کیمپ کے قریب سے ہی گزرجاتا تھا۔ کیونکہ ذہن میں یہی سوال تھا کہ وہاں جا کے کیا کہوں گا، کیا پوچھوں گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن پانچویں روز ہمت کی اور کیمپ میں چلا گیا۔ وہاں بیٹھے دوست سے بروشر لیا اور ہاسٹل چل دیا۔ ہاسٹل پہنچ کر بروشر کو دیکھا جس پر گزشتہ سال کی میرٹ لسٹ، آئی ایس او پاکستان کا تعارف، نصب العین اور اغراض و مقاصد لکھے ہوئے تھے۔ لیکن ان چیزوں میں کچھ خاص کشش نہیں تھی۔ کیونکہ آنکھیں کسی اور چیز کی ہی متلاشی تھیں۔ آنکھوں کی یہ تلاش بھی اس وقت اختتام پر پہنچی جب نظریں JOIN ISO کی بڑی سی شہ سرخی پہ پڑیں۔ آنکھوں میں چمک آئی اور ہونٹوں پر اک عجب سی مسکراہٹ نے قبضہ کیا جس وجہ سے بے چینی میں اضافہ ہوا۔ وہاں دو نمبر دیے گئے تھے۔ میں نے خیر ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ اور ان کوآئی ایس او پاکستان میں شمولیت کےلیے بتایا جس پر انہوں نے اگلے روز کیمپ پر ملنے کا کہا۔
اگے دن کلاس کے اختتام پر میں کیمپ کی طرف گامزن ہوا۔ اپنا خواب حقیقت میں بدلتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن پریشانی نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا کہ پتہ نہیں وہ کیا کہیں گے، ان کا برتاؤ کیسا ہوگا، کیا سوال پوچھیں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔ خیر کیمپ پر پہنچا۔ وہاںپر پوچھا کہ محبوب بھائی کون ہیں تو پینٹ شرٹ میں ملبوس ، چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے سرائیکی لہجہ میں ایک نوجوان نے فوراً پوچھا کہ آپ علی بھائی ہیں؟ میں نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ نوجوان اس طرح بغل گیر ہوا جیسے ہم سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ اس وقت دونوں میں ایک چیز مشترک تھی محبتِ آلِ محمدؑ ،کہ جس بناء پر یوںساری اجنبیت دور ہو گئی۔ خیر محبوب بھائی نے تنظیم کا باقاعدہ طور پر تعارف کروایا۔ تنظیمی اقدار کے بارے میں بتایا اور تنظیمی ڈھانچہ سے آشنائی کروائی۔ اس دن سے میں محبوب بھائی کے ساتھ ہو گیا۔ جو وقت میں دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی میں آوارہ گردی میں گزارتا تھا وہی وقت محبوب بھائی کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا جس میں تنظیمی نشستوں میں شرکت، سینئر دوستوں سے ملاقات اور ان سے نظریات کے بارے میں گفتگو شامل ہیں۔

دسمبر 2017 میں ہونے والا “فارن اسکالرشپ سیمینار و ویلکم پارٹی ” میرا وہ پہلا پروگرام تھا جس کے انتظامی امور میں نے سنبھالے۔ اس سارے مرحلہ میں محبوب بھائی کی طرف سے راہنمائی ملتی رہی۔ اور یوں یونیورسٹی کا ایک بگڑا ہوا نوجوان اس کارواں میں شامل ہوکر خود کو تبدیل ہوتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس پروگرام کو منعقد کروانے سے میرے اندر خود اعتمادی میں اضافہ ہوا جس نے میری یونیورسٹی لائف میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی سال 2017-18 کی ڈویژنل کابینہ میں بطور معاونِ ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات ذمہ داری سرانجام دی۔ اسی ذمہ داری کے دوران گرافک ڈیزائننگ کا شوق پیدا ہوا جو آج بھی قائم ہے۔اور اس سال ماہنامہ العارف کے اپریل ایڈیشن میں “ہم اور ہمارا معاشرہ” کے عنوان سے میرا آرٹیکل بھی چھپا کہ جس سے کالم نگاری میں دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے بعد 2018-19 کی ڈویژنل کابینہ میں بطورِ ڈویژنل سیکرٹری اطلاعات ذمہ داری سرانجام دی۔ پھر 2019-20 میں ڈویژنل میڈیا سیل انچارج کی ذمہ داری سرانجام دی اور اِس وقت بطورِ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔
تنظیم میں شمولیت کے بعد دعاء و مناجات سے تعارف ہوا۔ شہداء اور شہداء کی طرزِ زندگی سے روشناس ہوا۔ اور سب سے بڑھ کر آج کے زمانے کی قیمتی ترین دولت ولایتِ فقیہ سے مالا مال ہوا۔ تنظیمی شخصیات میں بانی تنظیم شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ سے کافی متاثر ہوا ۔
بطورِ نوجوان جب آپ اس معاشرہ کی غلاظت ، بے ہودگی، فحاشت میں پِس رہے ہوں تو اس وقت اگرایک محسن آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو نیک اور فلاحی کام کی طرف لگا دے تو وہ محسن آپ کو ساری زندگی یاد رہتا ہے اور آپ اس کے احسان مند رہتے ہیں۔ آئی ایس او پاکستان بھی ایسی ہی ایک محسن تحریک و تنظیم ہے جو انسان کو زمانے کی غلاظتوں اور نجاستوں سے نکال کر راہِ محمد ؐ و آلِ محمدؑ پہ گامزن کر دیتی ہے۔
آئیے! ہم دعوت دیتے ہیں ہر ایک نوجوان کو ایک ایسے کارواں میں شمولیت کی جو خطِ محمدؐ و آلِ محمد ؑ پر گامزن ہے، جس کےمسافروں کو رہبر معظم ؒ نے اپنی آنکھوں کا نور اور قائد شہید حسینیؒ نے اپنے بال وپر کا نام دیا، جس کے سپہ سالار سید علی خامنہ ایؒ،جس کا گروہ اللہ کا گروہ ہے اور ہدف خدا کا قرب ہے، وہ قافلہ کہ جس نے مظلومین کےلیے آواز بلند کی اور ظالموں کے خلاف ہمیشہ برسرِ پیکار رہا اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ انشاء اللہ
لکھنے کےلیے بہت کچھ ہے مگر اسی شعر کے ساتھ ہی اپنے قلم کو روکوں گا
؎ قلمیں تری تراش کے بوتے رہے ہیں لوگ
کوئی شجر نہ بن سکا تجھ جیسا سایہ دار

2 thoughts on “میرا تنظیمی سفر”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *