معاشرے کو تنظیم کی ضرورت کیوں؟

تحریر: رسول میر

ہماری سماج میں اجتماعی تعقل کی شرح روز بروز کم ہوتی جارہی ہے- مادیت اور نفسانفسی کے عالم میں سرگرداں معاشرہ نئی نسل کو مثبت رخ دینے اور ایک اعلٰی و ارفع ہدف کی جانب متوجہ کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے جوکہ انسانی سماج کے لئے پریشان کن مرحلہ ہے- ہر کوئی اپنی تعلیم , معیشت اور مستقبل کے لئے پریشان نظر آتے ہیں اور یہ شعور نہیں رکھتے کہ ہمارا معاشرہ ایک کشتی کے مانند ہے- اگر ہم نے غربت ,جہالت , پس ماندگی اور فحاشیت و عریانیت کے طوفان سے بچا کر نئی نسل کو نجات کے ساحل پہ لنگر انداز کرنا ہے تو ہمیں پوری کشتی کی حفاظت کرنی پڑے گی- میں چاہے اپنے بچوں پہ جتنی توجہ دوں ان کو پال پوس کے بڑا کروں اچھی تعلیم بھی دلوادوں , تربیت کا بھی معقول انتظام کروں لیکن جس کشتی پہ میں سوار ہوں اس میں کسی بھی جگہے سے سراغ ہوجائے تو میرا بھی اپنے خاندان سمیت اس جہالت کی طوفان میں غرق ہونا ایک یقینی امر ہے-
معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور جرائم کی اصل وجہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا کوئی معقول بندوبست نہ ہونا ہے – آج کل اچھے اچھے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے باوجود بچے والدین کی عزت اور خاندان کی منزلت کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں- والدین کی نافرمانی , بڑوں سے بے ادبی , رشتوں کی تقدس اور احترام میں کمی , ناجائز تعلقات اور بری دوستی وہ بیماریاں ہے جو ہماری سماج کی ستون کو بری طرح چاٹ رہے ہیں- بعید نہیں کہ مغرب کی طرح ہمارا بھی گھریلیو اور سماجی نظام کا خوبصورت عمارت گر کر زمین بوس ہوجائے-
ستم بالائے ستم اس نازک ماحول کو جدید آلات , انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بے لگام وسائل نے پیچیدتر بنادیا ہے- مزید یہ کہ والدین کی مصروفیت اور گھر میں نگرانی کی کمی کی وجہ سے ہمارے بچے شیطانی طاقتوں کے لئے تر لقمہ بن چکا ہے- بہت سارے والدین معاشرے کی بگڑتی حالات کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں-
اس نازک صورتحال میں ایک شجر سایہ دار امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے آپ کے بچوں کو فسق و فجور کی تباہ کن اثرات سے بچانے کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے- آئی ایس او کا شجر طیبہ جس کی بنیاد مسیحائے ملت , سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے رکھا- ابوزر زمان سید صفدر نجفی اور آغا علی موسوی جیسے عرفانی شخصیات نے نگرانی اور معنوی تربیت کی- آج بھی پاکستان کے گوش و کنار میں ہزاروں پاکیزی قلوب کے حامل نوجوانوں نے پوری عزم اور حوصلے کے ساتھ والہانہ اور عاشقانہ انداز میں اس الٰہی تحریک کو جاری رکھا ہوا ہے- مرکزی کنونشن کے بعد اس وقت تمام ڈویڏن اور گلی محلوں میں اس شجر طیبہ کی تنظیم نو جاری ہے لہٰذا اپنے بچوں کو عصر حاضر کے فکری انحرافات , فسق و فجور اور بے راہ روی کے طوفانوں سے بچانے کے لئے اس کاروان امن سے منسلک کریں
تعلیم و تربیت کا یہ کارواں جہاں مختلف تعلیمی سرگرمیوں کے زریعے آپ کے بچے کی معیار تعلیم کو بلند کرتے ہیں وہاں بچپن سے ہی دعا و مناجات اور صوم و صلات کا پابند بنا دیتے ہیں- طلاب کی نمو اور رشد کے ساتھ بدنی اور فکری تربیت کے لئے مختلف ٹریننگ سیشن , تربیتی ورکشاپ اور تعلیمی سیمنار کا اہتمام کیا جاتا ہے- آپ کے بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے فرسٹ ایڈ , ریسکیو اور سکاوٹنگ کی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ بچے میں خدمت انسانیت کا جزبہ پیدا ہو- سکول سے لیکر کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک ایک بے لوث اور جانثار رفیق کی طرح یہ تنظیم آپ کے بچے کو معاشرے کی فسق و فجور , فحاشیت و عریانیت اور بے راہ روی سے بچانے کے لئے سرگرم عمل رہتی ہے-
اس وقت کفر و الحاد نت نئے افکار کے زریعے آپ کی اولاد پہ تسلط جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے- آئی ایس او پاکستان وہ فکری نظام عطا کرتی ہے جس سے نئی نسل ملت اسلامیہ سے شعوری طور پر منسلک ہوجاتی ہے- یوں وہ اپنی زات اور فرد محوری سے نکل کر عالم انسانیت کے لئے سوچنا شروع کرتے ہیں- ایسی اولاد جہاں والدین اور قوم ملت کے لئے فخر کی باعث بنتے ہیں وہاں معاشرے کی بقا , ارتقا اور تاکامل کی ضمانت بن کر اعلٰی کارنامے انجام دیتے ہیں- یہی وہ الٰہی و انسانی اقدار ہیں جس کی بقا , ترویج اور حاکمیت کے لئے انبیاء کرام , آئمہ معصومین , شہداء اور علماء نے اپنی زندگیوں کا نظرانہ پیش کیا-

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *