فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے دوریاستی حل پیش کرنا بانی پاکستان کے اصولوں سے انحراف ہے

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیرانتظام متحدہ طلبہ محاذ کے مرکزی رہنماؤں کی پریس کلب میں مشترکہ پریس کا نفرنس
لاہور: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیرانتظام پریس کلب لاہور میں متحدہ طلبہ محاذ کے مرکزی رہنماؤں عارف حسین مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان، ملک موسی کھوکھر صدر پیپلز سٹوڈنٹس،حمزہ محمد صدیقی صدر اسلامی جمعیت طلبا،چودھری عرفان یوسف صدر مصطفوی سٹوڈنٹس مووومنٹ، سہیل چیمہ صدر ایم ایس ایف، غازی الدین بابر جمعیت طلبا اسلام (سمیع الحق) محمد وسیم رہنما اہلحدیث سٹوڈنٹس ،رانا عثمان سرور جمعیت طلبہ اسلام (فضل الرحمن گروپ)اور المحمدیہ سٹوڈنٹس کے محمد وقار نے پریس کلب لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک گیر“ فلسطین حمایت مہم“ چلانے کا اعلان کردیا۔

مہم کے تحت 30جون کولاہور میں آل پارٹیزطلبہ کانفرنس منعقد ہوگی جس میں ملک گیر طلبہ تنظیموں کے صدرو شریک ہونگے جبکہ متحدہ طلبہ محاذ کا وفد مختلف ممالک کے سفیروں سے ملاقات کرے گا اور مسلم حکمرانوں کو خطوط لکھ کر مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ فلسطین حمایت مہم کے دوران چھوٹے بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور القدس ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔
پریس کانفرنس سے طلبہ رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمان ممالک کو فلسطین اور کشمیر پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے ، مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں اور اسلامی ممالک کو اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والوں کو مسلم امہ کا خائن سمجھتے ہیں، اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا در حقیقت مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی وصہیونی سازش ہےاس کے ساتھ ہی مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امہ کے اتحاد ہی سے ممکن ہے لیکن جو ممالک اور حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکے ہیں ہم ان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سے فی الفور تعلقات منقطع کریں اور مسلم امہ کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچالیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل قابلِ مزمت ہے اسرائیل دہشت گردی کا اڈہ ہے اور مسئلہ فلسطین کا حل صرف مزاحمت ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے دوریاستی حل پیش کرنا بانی پاکستان کے اصولوں سے انحراف ہے

متحدہ طلبہ محاذ کے قائدین کا کہنا تھا اقوام متحدہ غزہ میں انسانی ایمرجنسی کا اعلان کرے۔ اسرائیلی حکمرانوں پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔ غزہ میں بین الاقوامی حفاظتی فوج تعینات کی جائے۔ مسئلہ فلسطین کے ایجنڈے پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔اسلامی ممالک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ قبلہ اوّل کی آزادی کے لئے اسلامی ممالک کا اتحاد ضروری ہے۔ اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسلم حکمران مصلحتیں چھوڑکر مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حق میں مشترکہ آواز اٹھائیں۔ اقوام متحدہ فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت سے نجات دلانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ قبلہ اوّل پر یہودیوں کا قبضہ امت مسلمہ کی غیرت کے لئے عظیم چیلنج ہے۔ ستر سال گزرنے کے باوجود مسئلہ فلسطین حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیداروں کی اسرائیلی دہشت گردی پر خاموشی شرمناک ہے۔ اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔فلسطین اور بیت المقدس پر بروز طاقت قبضہ کرنے والوں کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا مسلم حکمران بے حسی کا کفن اوڑھے بے غیرتی کی قبر میں دفن ہو چکے ہیں۔ عالم اسلام متحدہ ہوکر مظلوم فلسطینیوں کی مدد کیلئے نکلے۔امت مسلمہ کے تمام مسائل کا واحدحل اتحاد امت اور ملی وحدت میں مضمر ہے۔اقوام متحدہ مسلمانوں کے مسائل حل کرانے میں ناکام ہو چکی ہے۔عرب ممالک تیل کی سپلائی بند کر کے امریکہ کو اسرائیل نواز فلسطین پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔اقوام متحدہ میں طاقتور ممالک کی ویٹو پاور مسلمانوں کے مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مسلم ممالک اپنی اسلامی اقوام متحدہ بنائیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کا لہو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک کے باہمی جھگڑوں کی وجہ سے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو رہا۔ ہر کلمہ گو مسلمان کے دل میں مظلوم فلسطینیوں کیلئے احساس اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔استعمار فلسطین کو زیادہ دیر غلام نہیں رکھ سکتا۔ امریکہ کی فلسطین پالیسی اسلام دشمنی پر مبنی ہے۔ اہل حق امریکہ کی استعماریت اور سامراجیت کی مزاحمت کریں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *