انقلاب اسلامی عالم اسلام کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے | مرکزی صدر

نظام ولایت فقیہ کیساتھ ارتباط پر فخر ہے، کارکن آفاقی انقلاب کیلئے زمینہ سازی میں کردار ادا کریں امت مسلمہ …

متحدہ طلبا محاذ کا طلبا یونین بحالی کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی استعداد بڑھے گی متحدہ طلبا محاذ کے تمام طلبا تنظیموں کے سربراہان کا اجلاس …

طلبہ یونین پر طویل پابندی جمہوری حق سے محروم رکھنے کی آمرانہ سازش ہے | مرکزی صدر

 طلبہ تاریخ کا سیاہ دن۹فروری طلبہ یونین پر طویل پابندی جمہوری حق سے محروم رکھنے کی آمرانہ سازش ہے۔ مرکزی …

Students Leaders' Conference

آئی ایس او کے زیر انتظام متحدہ طلباء محاذ کی اسٹوڈنٹس لیڈرز کانفرنس کل ہوگی

آئی ایس او کے زیر انتظام متحدہ طلباء محاذ کی اسٹوڈنٹس لیڈرز کانفرنس کل ہوگی کانفرنس میں طلباء تنظیموں کے …

Aye Wadi E Kashmir | Special Anthem on Kashmir 5 February | ISO Pakistan

یوم یکجحتی کشمیر ۵ فروری کی مناسبت سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان آزاد کشمیر ڈویژن کی جانب سے خصوصی پیشکش …

نوجوان معاشرے کا موذن ہے اگر وہ سوتا رہے تو ملت کی نماز قضاء ہوجائے گی| شہید بہشتی

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے سال ٢٠٢١ کے نّو منتخب یونٹ صدور اور کابینہ کے اعزاز …

ہم کون ہیں؟

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بارے میں

  ء۱۹۶۰ کی دہائی میں دنیا کے اندربہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ ایک طرف سوشلزم کے مکروہ نظریات نوجوانوں پر حملہ آور تھے تو دوسری جانب کمیونزم کی یلغار تھی۔ تمام پارٹیاں انہی نظریات کی حامل تھیں۔ طلباء برادری میں ایک طرف اسلامی جمعیت طلبہ اپنے نظریات کے پرچار میں مصروف تھی تو دوسری طرف نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کام کررہی تھی جو سوشلسٹ نظریات کے قائل تھے، یہ نظریات اسلام کے اصولوں کے منافی تھے اور یونیورسٹی کی سطح پر نوجوانوں کو گمراہ کررہے تھے، ایسے میں چند شیعہ نوجوانوں نے جن میں ناصر نقوی، ڈاکٹر محمد علی شہید نقوی اور دیگر نے اس بات کا نوٹس لیا کہ ایک تو ہمارے نوجوان ان تنظیموں کا حصہ بن کر نہ صرف اسلام سے دور ہورہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی توانائیاں غلط جگہ پر استعمال کررہے ہیں۔لہٰذا ان دوستوں نے طے کیا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی فکری، روحانی، تعلیمی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک طلبا تنظیم بنائیں گے کہ جو تشیع کے نوجوانوں کی علمی اور فکری تربیت کریں گے۔

لاہور کے تعلیمی اداروں کے جوانوں کا نمائندہ اجلاس طلب کیا گیا، جس میں آئی ایس او کی بنیاد1972ء میں رکھی۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام شہروں کے طلباء کی آواز بن گئی۔

یہ قافلہ لاہور سے شروع ہوا اور کچھ ہی عرصہ میں گلگت بلتستان اور کوئٹہ تک پھیل گیا۔ اس قافلہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان کی سرزمین پر اپنے کاموں کو جاری رکھا ہوا ہے۔

سب سے اہم یہ کارنامہ انجام دیا گیا کہ شیعہ نوجوانوں کو پہچان دی۔ نوجوانوں کے لئے فکری، تربیتی و دینی ورکشاپس، شب بیداریوں کا سلسلہ،علما کا تعارف، علما کی طرف جوانوں کی رغبت وغیرہ شامل ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد اس انقلاب کا تعارف پاکستان میں لوگوں کو کروایا۔ حقیقی معنوں میں امام خمینیؒ کے پیغام کو نہ صرف سمجھا، بلکہ پورے پاکستان میں خمینی بت شکن کا تعارف کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

جب امام راحل نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تو اسرائیل سے اظہار برات کے لئے ریلیوں کا انعقاد کیا اور آج تک اس کو منارہے ہیں، اگر عالمی استعمار کو للکارنے کی بات کی جائے، اس کے ظلم کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی جائے تو اس میدان میں بھی ان نوجوانوں نے اپنے بابصیرت قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے حکم پر یوم مردہ باد امریکہ کا انعقاد کیا اور اپنے امام کی اس نصیحت پر کہ ہرظالم کے مخالف اور ہر مظلوم کے حامی رہو، اس پر آج بھی عمل کررہے ہیں۔

ذکر اگر طلبا تنظیم کا ہو تو تعلیم پر بات نہ کروں یہ مناسب نہ ہوگا، اپنے قیام سے لے کر آج تک آئی ایس او نے ہزاروں طالب علموں کو تعلیمی وظائف دیئے۔

طلبہ کے تعلیمی کیرئیر کے لئے کونسلنگ پر وگرام منعقد کئے، یونیورسٹی کی سطح پر مختلف شعبوں کے طلبا کو نہ صرف راہنمائی فراہم کی، بلکہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے بھی طلبا کو مکمل طور پر راہنمائی کرتی رہی ۔

اگر صرف گزشتہ دو برسوں کی بات کی جائے تو سینکڑوں طلبا کو ہائیر ایجوکیشن کے لئے اچھی یونیورسٹیز میں داخلے میں مدد کی۔ مختلف علاقوں کے اندر فری ٹیوشن سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا، جو آج بھی اپنی خدمات پاکستان کے کونے کونے میں سرانجام دے رہے ہیں، پری بورڈ ایگزیمز سے لے کر یونیورسٹیوں میں داخلے تک اور پھر ہائیر ایجوکیشن کے لئے مدد کی فراہمی تک آئی ایس او طلبا کو راہنمائی فراہم کرتی رہی۔ بانی تنظیم سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے فرمایا تھا کہ عزیز دوستو! یہ تنظیم آپ کے پاس امانت ہے۔

 

شہید کے اس فرمان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہے کوئی جو آج اس شجرہ طیبہ کو امان دے، اس کی حفاظت کرے، کیونکہ شہید جانتے تھے کہ آئی ایس او پاکستان کو امان کی ضرورت پڑے گی، اس کو کمزور کرنے کے لئے اس کے مقابلے پر جماعتیں بنائی جائیں گی، شہید نقوی جانتے تھے، اس لئے فرما گئے کہ عزیز دوستو!، یہ تنظیم آپ کے پاس امانت ہے، یعنی اس میں کسی کو خیانت مت کرنے دینا، اسے ہدف سے دور مت ہٹنے دینا، اسے کسی کے ہاتھوں استعمال مت ہونے دینا۔ خدا سے دعا ہے کہ اس کاروان کو ترقی عطا ہو، اس کے مخلصین کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھ، آمین

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہوں